ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / میونسپل صدر اور نائب صدر کے لئے کل ہوگا تنظیم کا فیصلہ؛ میں میونسپل صدارت کی دوڑ میں نہیں ہوں؛ الطاف کھروری کا بیان

میونسپل صدر اور نائب صدر کے لئے کل ہوگا تنظیم کا فیصلہ؛ میں میونسپل صدارت کی دوڑ میں نہیں ہوں؛ الطاف کھروری کا بیان

Tue, 06 Sep 2016 18:09:48    S.O. News Service

بھٹکل 6/ستمبر(ایس او نیوز) بھٹکل ٹاؤن میونسپل کے لئے صدر اور نائب صدر کے انتخابات میونسپالٹی میں 9/ستمبر کو ہوں گے، مگر اس ضمن میں مقامی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم کی میٹنگ کل بدھ کو رکھی گئی ہے جس میں تنظیم کی جانب سے صدر اور نائب صدر کا انتخاب ہوگا۔ خیال رہے کہ بھٹکل میونسپالٹی کے جملہ 23کونسلروں میں 15 کونسلرس تنظیم کے حمایت یافتہ ہیں، اس بنا پر تنظیم کے ٹیبل پر صدر اور نائب صدر کے لئے جس کونسلر کا انتخاب گا، وہی فیصلہ حتمی ہوگا۔

واضح رہے کہ صدرکے لئے ڈاکٹر ایس ایم سید سلیم، محمد صادق مٹا اور محی الدین الطاف کھروری کے نام پیش پیش تھے، مگر الطاف کھروری نے ساحل آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ اس دوڑ میں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم کے جنرل سکریٹری کے باوقار عہدہ پر فائز ہیں اور اُنہیں قوم و ملت کی خدمت کا موقع ملا ہے، لہٰذا وہ اپنی خدمات کو جاری رکھیں گے۔

اُدھر سوشیل میڈیا میں ڈاکٹر ایس ایم سید سلیم اور محمد صادق مٹا کے تعلق سے عوام الناس میں گرماگرم بحث جاری ہے، کچھ سنئیر لوگ چاہتے ہیں کہ ڈاکٹر ایس ایم سید سلیم جن کو میونسپالٹی کا کافی تجربہ ہے اور وہ  کافی عرصہ پہلے بھی صدر رہ کر خدمات انجام دے چکے ہیں اور اب وہ نائب صدر کے عہدہ پر رہ کر قوم وملت کی خدمت انجام دے رہے ہیں، لہٰذا  اُن ہی کو پھر ایک  بارموقع دیاجانا چاہئے، البتہ نوجوان طبقہ محمد صادق مٹا کے حق میں نظر آرہا ہے جو میونسپالٹی میں نئے چہرے اورسماجی کاموں میں سرگرم ممبرکو صدارت پر فائز دیکھنا چاہتے ہیں۔ اب حتمی فیصلہ کل بدھ کو تنظیم ٹیبل پر ہی ہوگا کہ تنظیم ان دونوں میں کس کے حق میں فیصلہ سناتی ہے۔

سوشیل میڈیا میں اس وقت نائب صدر کے عہدہ کو لے کر بھی کافی چرچہ ہورہا ہے، اس ضمن میں پہلی بار کونسلر منتخب ہونے والے قاضیا اسٹریٹ کے قیصر محتشم کا نام کافی سُرخیوں میں ہے، سنئیر کونسلر س عبدالرؤف نائطے اور کے ایم اشفاق بھی اس دوڑ میں نظر آرہے ہیں، دیکھنا یہ ہے کہ کل تنظیم کی  میٹنگ میں کون کس پر سبقت حاصل کرتا ہے۔

 


Share: